السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ظهور العورة من أسفل الإزار عند السجود باب: سجدے کے وقت تہبند کے نیچے سے ستر ظاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ إِمْلَاءً ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِينَ أُزُرَهُمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِثْلَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَائِلٌ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا، وہ اپنے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے بچوں کی طرح اپنی گردنوں پر باندھے ہوئے ہوتے اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے۔ کسی نے کہا: اے خواتین کی جماعت! اس وقت تک اپنے سر نہ اٹھایا کرو جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔