حدیث نمبر: 3285
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: اخْتَلَفَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَابْنُ مَسْعُودٍ فِي الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ أُبَيٌّ: " ثَوْبٍ " وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: ثَوْبَيْنِ فَجَازَ عَلَيْهِمْ عُمَرُ فَلَامَهُمَا، وَقَالَ: " إِنَّهُ لَيَسُوءُنِي أَنْ يَخْتَلِفَ اثْنَانِ مِنْ أَصْحَابِ ⦗٣٣٧⦘ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ، فَعَنْ أَيِّ فُتْيَاكُمَا يَصْدُرُ النَّاسُ؟ أَمَّا ابْنُ مَسْعُودٍ فَلَمْ يَأْلُ وَالْقَوْلُ مَا قَالَ أُبَيٌّ " وَرَوَاهُ أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ دُونَ ذِكْرِ عُمَرَ وَقَالَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ إِذَا كَانَ فِي الثِّيَابِ قِلَّةٌ فَأَمَّا إِذَا وَسَّعَ اللهُ فَالصَّلَاةُ فِي ثَوْبَيْنِ أَزْكَى وَهَذَا وَالَّذِي قَبْلَهُ يَدُلَّانِ عَلَى أَنَّ لِلَّذِي أَمَرَ بِهِ عُمَرُ وَابْنُ مَسْعُودٍ فِي الصَّلَاةِ فِي ثَوْبَيْنِ اسْتِحْبَابٌ لَا إِيجَابٌ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے درمیان ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے میں اختلاف ہوگیا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک کپڑے میں پڑھی جائے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دو کپڑوں کے قائل تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو ان دونوں کو ملامت کی اور فرمایا: ”مجھے تو یہ بات بہت بری لگتی ہے کہ ایک چیز کے بارے میں دو صحابی اختلاف کریں، تم میں سے ہر ایک کا فتویٰ لوگوں پر صادر ہوگا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ نہیں کہتا اور ابی رضی اللہ عنہ کی بات درست ہے۔“
(ب) یہ روایت ابو مسعود جریری نے ابونضرہ کے واسطے سے بیان کی، اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ اس وقت ہے جب کپڑے کم ہوں اور جب اللہ تعالیٰ وسعت دے دے تو دو کپڑوں میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔“
(ج) یہ اور اس سے پہلی دونوں حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے جو حکم دیا ہے، یعنی دو کپڑوں میں نماز، یہ مستحب ہے واجب نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3285
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 516۔ النسائي 769»