وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحِرَفِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ ⦗٣٢١⦘ سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كُنَّ إِمَاءُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْدِمْنَنَا كَاشِفَاتٍ عَنْ شُعُورِهِنَّ تَضْرِبُ ثُدِيُّهُنَّ " قَالَ الشَّيْخُ: " وَالْآثَارُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ صَحِيحَةٌ، وَإِنَّهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَأْسَهَا وَرَقَبَتَهَا وَمَا يَظْهَرُ مِنْهَا فِي حَالِ الْمِحْنَةِ لَيْسَ بِعَوْرَةٍ، فَأَمَّا حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَقَدِ اخْتُلِفَ فِي مَتْنِهِ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُعْتَمَدَ عَلَيْهِ فِي عَوْرَةِ الْأَمَةِ وَإِنْ كَانَ يَصْلُحُ الِاسْتِدْلَالُ بِهِ وَبِسَائِرِ مَا يَأْتِي عَلَيْهِ مَعَهُ فِي عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِحَدِيثٍ رَوَاهُ بِإِسْنَادِهِ.(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈیاں ہماری خدمت کیا کرتی تھیں، ان کے بال کھلے ہوتے اور سینے پر کپڑا ڈالے ہوئے ہوتیں۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس مسئلہ کے بارے میں جو آثار منقول ہیں وہ صحیح ہیں اور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لونڈی کا سر، گردن اور کام کاج کے دوران جو حصہ ظاہر ہو وہ ستر نہیں ہے۔
(ج) رہی عمرو بن شعیب کی روایت تو اس کا متن مختلف فیہ ہے، لہٰذا کسی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ لونڈی کے ستر میں اس پر اعتماد کیا جائے اور اگر اس جیسی روایات سے استدلال کرنا صحیح ہو تو یہ مرد کے ستر کی طرح ہو جائے گا، وباللہ التوفیق۔