وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: صَوَابُهُ سِوَارُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ إِذَا قُرِنَتْ بِرِوَايَةِ الْأَوْزَاعِيِّ دَلَّنَا عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْحَدِيثِ نَهْيُ السَّيِّدِ عَنِ النَّظَرِ إِلَى عَوْرَتِهَا إِذَا زَوَّجَهَا وَأَنَّ عَوْرَةَ الْأَمَةِ مَا بَيْنَ السُّرَّةِ وَالرُّكْبَةِ، وَسَائِرُ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ يَدُلُّ وَبَعْضُهَا يَنُصُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ نُهِيُ الْأَمَةِ عَنِ النَّظَرِ إِلَى عَوْرَةِ السَّيِّدِ بَعْدَ مَا زُوِّجَتْ أَوْ نُهِيُ الْخَادِمِ مِنَ الْعَبْدِ أو الْأَجِيرِ عَنِ النَّظَرِ إِلَى عَوْرَةِ السَّيِّدِ بَعْدَ مَا بَلَغَا النِّكَاحَ، فَيَكُونُ الْخَبَرُ وَارِدًا فِي بَيَانِ مِقْدَارِ الْعَوْرَةِ مِنَ الرَّجُلِ لَا فِي بَيَانِ مِقْدَارِهَا مِنَ الْأَمَةِ وَسَنَأْتِي عَلَى ذِكْرِهَا فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِيهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کا نکاح اپنے غلام یا نوکر سے کر دے تو پھر اس (لونڈی) کے ستر کو ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے اوپر تک ہرگز نہ دیکھے۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کا جب اوزاعی کی روایت سے موازنہ کریں تو مطلب یہ ہے کہ آقا جب اپنی لونڈی کا نکاح کسی سے کر دے تو اس کا ستر نہ دیکھے اور دوسری بات یہ حاصل ہوئی کہ لونڈی کا ستر ناف اور گھٹنے کے درمیان ہے۔
اس حدیث کے تمام طرق اس بات پر دلالت کرتے ہیں اور بعض میں صراحت ہے کہ اس سے مراد لونڈی کو نکاح کے بعد اپنے آقا کا ستر دیکھنے کی ممانعت ہے، یا خادم (غلام یا نوکر) کو بالغ ہونے کے بعد اپنے آقا کے ستر کی طرف دیکھنے کی ممانعت ہے۔ یہ حدیث مرد کے ستر کی مقدار کے بیان کے لیے ہے نہ کہ لونڈی کے ستر کی۔ ان شاء اللہ ہم اگلے باب میں اس کا ذکر کریں گے۔