السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها باب: نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ " قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ؟ قَالَ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا " قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟ قَالَ: " اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ " أَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي التَّرْجَمَةِ.بہز بن حکیم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ (رضی اللہ عنہ) سے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم کس سے اپنا ستر چھپائیں اور کس سے نہ چھپائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا ستر سب سے چھپاؤ سوائے اپنی بیوی یا لونڈی کے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ملے جلے ہوں تو پھر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تجھ سے ہو سکے کہ تیرا کوئی ستر نہ دیکھے تو ایسا ہی کر۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص گھر میں اکیلا ہو تو پھر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ شرم کرنی چاہیے، وہ حیا کا زیادہ مستحق ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔