السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب لبس المصلي -- باب: وجوب ستر العورة للصلاة وغيرها باب: نمازی کے لباس سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: نماز اور دیگر اوقات میں ستر عورت کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3206
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: " نَهَى ⦗٣١٧⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهُ مِنْهُ شَيْءٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک کپڑا اس طرح لپیٹنے سے منع فرمایا ہے کہ ہاتھ سب بند ہو جائیں۔“ بعض کہتے ہیں: «اِشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» یہ ہے کہ کپڑے کو لپیٹ لے اور ایک طرف سے اس کو اٹھا کر کندھے پر ڈال دے، اس سے شرم گاہ کھل جاتی ہے، اور ”ایک کپڑے میں گوٹ مارنے سے بھی منع فرمایا جب کہ اس کی شرم گاہ پر کچھ نہ ہو۔“