السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال بترك الترتيب في قضائهن، وهو قول طاوس والحسن باب: اس قول کا بیان جس نے قضا نمازوں میں ترتیب چھوڑنے کا کہا ہے، اور یہ طاؤس اور حسن رحمہما اللہ کا قول ہے
حدیث نمبر: 3189
بَابُ مَنْ قَالَ بِتَرْكِ التَّرْتِيبِ فِي قَضَائِهِنَّ، وَهُوَ قَوْلُ طَاوُسٍ وَالْحَسَنِ.حافظ ثناء اللہ
باب: اس شخص کی دلیل کے بیان میں جس نے فوت شدہ نمازوں کی قضا کے دوران ترتیب کو ترک کرنے کا قول کیا ہے، اور یہی امام طاؤس اور امام حسن کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرَّاءُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ⦗٣١٢⦘ الضُّحَى، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: شُغِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى صَلَّى مَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَقَالَ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خندق والے دن رسول اللہ ﷺ سے لڑائی میں مصروفیت کی وجہ سے عصر کی نماز رہ گئی۔ آپ نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان نماز ادا کی اور فرمایا: ”ہمیں نمازِ وسطی سے مشغول رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔“