السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القنوت في الصلوات عند نزول نازلة باب: کوئی مصیبت نازل ہونے پر نمازوں میں قنوت پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 3098
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَعَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنْ مَنْ خَلْفَهُ، وَكَانَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ " قَالَ عِكْرِمَةُ هَذَا مِفْتَاحُ الْقُنُوتِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پورا مہینہ ظہر، مغرب، عشاء اور فجر کی آخری رکعت میں «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہنے کے بعد قنوت پڑھتے رہے اور قبائل عرب میں سے بنو سلیم کے رعل، ذکوان اور عصیہ کے لیے بددعا کرتے رہے اور مقتدی آمین کہتے اور یہ (شہدا) وہ لوگ تھے جن کو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت کے لیے بھیجا تھا تو انہوں نے ان کو قتل کر دیا۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہاں سے قنوت شروع ہوئی۔