السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كيفية الجهر باب: بلند آواز سے قراءت کرنے کی کیفیت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، فَكَانَ " إِذَا صَلَّى رَفَعَ صَوْتَهُ فَإِذَا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا ⦗٢٧٨⦘ الْقُرْآنَ وَمَنْ نَزَلَ بِهِ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] أَسْمِعْ أَصْحَابَكَ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ اس وقت مکہ میں چھپ کر عبادت کرتے تھے۔ آپ جب نماز پڑھتے تو اونچی قراءت کرتے۔ جب مشرکوں نے قرآن سنا تو انھوں نے قرآن کو برا بھلا کہا اور قرآن نازل کرنے والے اور لے کر آنے والے کو بھی برا بھلا کہا، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”کہ اے نبی! نہ اپنی نماز میں اونچی آواز سے قراءت کر اور نہ ہی بالکل آہستہ پڑھ۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ صرف اپنے ساتھیوں کو سناؤ۔ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کریں۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے ساتھی قرآن سن کر یاد کر لیں۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے بھی اپنی صحیح میں یہ حدیث اپنی سند سے روایت کی ہے۔ اس کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اپنی نماز میں اونچی قراءت نہ کر۔“ تاکہ مشرکین آپ کی قراءت نہ سن لیں ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور نہ ہی بہت زیادہ آہستہ۔“ بلکہ اپنے ساتھیوں کو قرآن سناؤ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کا کوئی درمیانی راستہ تلاش کر۔“ یعنی اتنی آواز سے پڑھو کہ آپ کے صحابہ آپ سے سن کر یاد کر لیں۔