السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإسرار بالقراءة في الظهر والعصر ووجوب القراءة فيهما باب: ظہر اور عصر میں آہستہ قراءت کرنے اور ان دونوں میں قراءت کے واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3062
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَتَوْا خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالَ: قَالَ لِي أَبِي: " قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، وَلَا أَعْلَمُ ذَلِكَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ فَنَحْنُ نَفْعَلُهُ ".حافظ ثناء اللہ
مطلب بن عبداللہ بن حنطب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے ظہر اور عصر کی قرأت میں اختلاف کیا، پھر وہ خارجہ بن زید بن ثابت رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: مجھے میرے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی تو قیام کے دوران آپ کے ہونٹ مبارک حرکت کر رہے تھے۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ قرأت کی وجہ سے ہل رہے تھے۔ بس ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں۔