السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب أن يكون انصراف المأموم بانصراف الإمام باب: اس قول کا بیان جس نے مقتدی کے واپس جانے کو امام کے واپس جانے کے ساتھ مشروط کرنا مستحب قرار دیا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ، وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ " وَهَذَا مُخْتَصَرٌ مِنَ الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ فِي النَّهْيِ عَنْ سَبْقِ الْمَأْمُومِ الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِيَامِ وَالِانْصِرَافِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِالِانْصِرَافِ الْخُرُوجَ مِنَ الصَّلَاةِ بِالسَّلَامِ، وَيُحْتَمَلُ غَيْرُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ التَّكْبِيرُ وَانْقِضَاؤُهَا التَّسْلِيمُ، إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَقُمْ إِنْ شِئْتَ ".سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں نماز پر خوب ابھارا (اور امام سے مراد آپ ﷺ خود ہیں) سے پہلے نماز سے پھرنے سے منع فرماتے تھے۔
یہ اس حدیث کا مختصر حصہ ہے جو علی بن مسہر سے مختار بن فلفل کے واسطے سے ثابت ہے اور وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مقتدی کے امام سے رکوع، سجود، قیام اور پھرنے میں پہل کرنے کی ممانعت کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔
اور یہاں پر یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ نماز سے انصراف و خروج سے ان کی مراد سلام ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور بھی احتمال ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم
اور ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت بھی بیان کی گئی۔ وہ فرماتے ہیں: نماز کی چابی (شروع کرنا) تکبیر یعنی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہنا ہے اور اس کا خاتمہ سلام ہے یعنی «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» ”السلام علیکم و رحمۃ اللہ“ کہنا ہے۔ جب امام سلام پھیرے اگر تو چاہے تو کھڑا ہو جا۔