السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السنة في رد النافلة إلى البيت إن كانت صلاة يتنفل بعدها باب: اگر نماز کے بعد نفل پڑھے جانے ہوں تو انہیں گھر جا کر پڑھنے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 3040
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجَرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَأَى النَّاسَ يُسَبِّحُونَ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا هَذِهِ الصَّلَوَاتُ فِي الْبُيُوتِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی ﷺ نے بنو عبد الاشہل کی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ان لوگوں کو نفل پڑھتے دیکھا تو فرمایا: ”اے لوگو! یہ تو گھروں کی نماز ہے۔“ (یعنی نوافل گھر میں پڑھنا بہتر اور افضل ہے)۔