حدیث نمبر: 2996
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدَ " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ، أَوْ حِينَ انْقِضَائِهَا فَابْدَءُوا قَبْلَ التَّسْلِيمِ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ وَالطَّيِّبَاتُ وَالصَّلَوَاتُ وَالْمُلْكُ لِلَّهِ، ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى الْيَمِينِ ثُمَّ سَلِّمُوا عَلَى قَارِئِكُمْ، وَعَلَى أَنْفُسِكُمْ وَفِي هَذِهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالرَّدِّ عَلَى الْإِمَامِ أَنْ يَنْوِيَ فِي تَسْلِيمِهِ عَنِ الصَّلَاةِ الرَّدَّ عَلَيْهِ لَا أَنَّهُ يُفْرِدُهُ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ يَرُدُّ عَلَى الْإِمَامِ فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ أَحَدٌ عَنْ يَسَارِهِ رَدَّ عَلَيْهِ "، وَرُوِّينَا عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: الرَّدُّ عَلَى الْإِمَامِ سَلَامُهُ سُنَّةٌ وَكَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ يَقُولُ: " إِذَا سَلَّمْتَ عَنْ يَمِينِكَ أَجْزَأَكَ مِنَ الرَّدِّ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ”جب تم درمیانِ نماز میں ہو یا اس کے اختتام کے قریب تو سلام سے قبل ابتدا کرو، یعنی یہ کلمات پڑھو: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ» ”تمام قولی، مالی اور فعلی عبادات اور تمام بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔“ پھر اپنے دائیں طرف سلام کہو اور اپنے امام پر اور اپنے آپ پر بھی سلام کہو۔“
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ امام کو سلام کا جواب دینے سے مراد یہ ہے کہ آدمی نماز سے سلام پھیرتے وقت امام کو سلام کا جواب دینے کی نیت بھی کرلے۔ اس کے لیے الگ سلام کرنا ضروری نہیں۔
ہمیں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے روایت بیان کی گئی کہ وہ اپنی دائیں جانب السلام علیکم کہتے، اس کے بعد امام کو سلام کا جواب دیتے، اگر کوئی ان کی بائیں جانب سے انہیں سلام کرتا تو وہ اس کو بھی سلام کا جواب دیتے۔
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام کو سلام کا جواب دینا سنت ہے۔
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تو اپنی دائیں طرف سلام پھیرے تو تجھے امام کے سلام کے جواب میں کافی ہو جائے گا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2996
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»