حدیث نمبر: 2981
وَأَمَّا حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا يَعْنِي الْإِشَارَةَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَابَةِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ لَنَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمْسِ، أَمَا يَكْفِي أَحَدَهُمْ أَوْ أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يُسَلِّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَلَى يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

(ا) سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو اپنی انگشت شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو، تم پر سلامتی ہو“، نبی ﷺ نے ہمیں فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہیں جیسے وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں، کیا ان میں سے کسی کو“ یا فرمایا: ”تم میں سے کسی کو یہ بات کافی نہیں کہ آدمی اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی ران پر رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرے۔“
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں مسعر بن کدام کی حدیث میں فرمایا: ”پھر اپنے داہنی اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2981
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه المنذري 896»