السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تحليل الصلاة بالتسليم باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2970
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ، وَقَعَدَ فَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ، وَمَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، فَإِنَّهُ لَا يَصِحُّ " ⦗٢٥١⦘ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ يَنْفَرِدُ بِهِ وَهُوَ مُخْتَلِفٌ عَلَيْهِ فِي لَفْظِهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا يُحْتَجُّ بِهِ كَانَ يَحْيَى الْقَطَّانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ لَا يُحَدِّثَانِ عَنْهُ لِضَعْفِهِ وَجَرَّحَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا مِنَ الْحُفَّاظِ ثُمَّ الْجَوَابُ عَنْهُ كَالْجَوَابِ عَمَّا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب امام نماز مکمل کر کے بیٹھا ہوا ہو، پھر بات کرنے سے پہلے بے وضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی اور اس کے مقتدیوں میں سے جس نے نماز مکمل کر لی تھی، ان کی نماز بھی مکمل ہو گئی۔“
یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ اسے بیان کرنے میں عبدالرحمن بن زیاد منفرد ہیں اور ان سے اس کے الفاظ میں اختلاف ہے۔ عبدالرحمن قابلِ حجت نہیں، یحییٰ قطان اور عبدالرحمن بن مہدی ان کے ضعف کی وجہ سے ان سے روایت نہیں کرتے تھے، اور احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر حفاظ نے ان پر جرح کی ہے۔