السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تحليل الصلاة بالتسليم باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ ⦗٢٥٠⦘ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فَذَكَرَهُ إِلَى: عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ فَإِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ وَإِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ: فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ، إِنْ كَانَتْ مَحْفُوظَةً أَشْبَهُ بِمَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي انْقِضَاءِ الصَّلَاةِ بِالتَّسْلِيمِ وَبِمَا سَنَرْوِيهِ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّسْلِيمِ وَكَأَنَّهُ أَرَادَ خِلَافَ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْمَأْمُومِ، أَنْ يَنْصَرِفَ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الصَّلَاةِ قَبْلَ انْصِرَافِ الْإِمَامِ، وَإِنْ كَانَتِ اللَّفْظَةُ الْأُولَى ثَابِتَةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَعْلُومٌ أَنَّ تَعْلِيمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ تَشَهُّدَ الصَّلَاةِ كَانَ فِي ابْتِدَاءِ مَا شُرِعَ التَّشَهُّدُ ثُمَّ كَانَ بَعْدَهُ شُرِعَتِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلِيلِ قَوْلِهِمْ: قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ ثُمَّ شُرِعَ التَّسْلِيمُ مِنَ الصَّلَاةِ مَعَهُ أَوْ بَعْدَهُ فَصَارَ الْأَمْرُ إِلَيْهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ " وَالَّذِي يُؤَكِّدُ هَذَا.(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے تشہد سکھائی... پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ تو چاہو تو وہیں بیٹھے رہو اور چاہو تو سلام پھیر لو۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جملہ «فَإِذَا فَرَغْتَ مِنْ صَلَاتِكَ» ”پس جب تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ“ ہمیں اگر محفوظ ہو تو یہ اس روایت کے زیادہ مشابہ ہے جو نماز کو سلام کے ساتھ مکمل کرنے کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پہنچی ہے اور اس کے بھی مشابہ ہے جس کو ہم عنقریب نبی ﷺ سے سلام کے بارے میں روایت کریں گے، گویا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی مراد اس کے خلاف ہے جو نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کے پھرنے سے پہلے مقتدی کے پھرنے کو جائز نہیں سمجھتا۔ اگر پہلے والے الفاظ نبی ﷺ سے ثابت ہوں تب بھی یہ سمجھا جائے گا کہ نبی ﷺ کا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھانا تشہد کے مشروع ہونے کے ابتدائی وقت میں تھا۔ بعد میں نبی ﷺ پر درود کا حکم ہوا۔ اس کی دلیل صحابہ کا یہ قول ہے: «قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ» ”ہمیں سلام (کا طریقہ) معلوم ہو گیا“ یعنی سلام کا طریقہ ہمیں معلوم ہو گیا اب یہ بتائیں کہ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ پھر اس کے بعد نماز سے سلام پھیرنا مشروع ہوا۔ سلام کی مشروعیت اس کے ساتھ ہوئی یا کچھ عرصہ بعد ہوئی۔ واللہ اعلم، اور جو بھی اس کی تاکید کرے وہ بھی اس میں شامل ہے۔