السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تحليل الصلاة بالتسليم باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2963
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ ثُمَّ أَحْدَثَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ " عَاصِمُ بْنُ ضَمْرَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يُخَالِفُ مَا رَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ صَحَّ ذَلِكَ عَنْهُ فَهُوَ مَحْجُوجٌ بِمَا رَوَاهُ هُوَ وَغَيْرُهُ، عَنْ سَيِّدَنَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّذِي لَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِهِ مَعَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی تشہد کی مقدار نماز میں بیٹھ جائے، پھر (اس کے بعد) بے وضو ہو جائے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔
امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی حدیث کی مخالفت کبھی نہیں کرتے، اگرچہ یہ روایت صحیح ہو پھر بھی دلیل وہ روایت ہے جو انہوں نے یا ان کے علاوہ کسی اور نے نبی کریم ﷺ سے نقل کی ہے، جس کے مقابلے میں کسی امتی کا قول حجت نہیں ہو سکتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ہی ضعیف ہے۔