السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تحليل الصلاة بالتسليم باب: سلام کے ذریعے نماز سے حلال ہونے (نکلنے) کا بیان
حدیث نمبر: 2961
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، وَوَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ أَحَدُنَا أَشَارَ بِيَدِهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: " مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَرْمِي بِيَدِهِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي، أَوَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ وَيُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِنْ عَنْ شِمَالِهِ؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ وَعَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ ⦗٢٤٧⦘ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ بِمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أَمَا يَكْفِي لَمْ يَشُكَّ فِيهِ " وَجَعَلَ اللَّفْظَ لِابْنِ أَبِي زَائِدَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے تو ہم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے دائیں اور بائیں طرف والوں کو سلام کہتا تھا، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں؟ تمہارے لیے صرف اتنا کافی ہے“ یا (آپ ﷺ نے فرمایا) ”کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اس طرح کرے؟“ پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو رانوں پر رکھا، اپنی انگشت مبارکہ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”پھر اپنے دائیں اور بائیں طرف والے بھائی کو سلام کرے۔“