السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب منع التطهير بالنبيذ باب: نبیذ سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ، فَبِتْنَا بِشِرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذْ هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَدْنَاكَ فَطَلَبْنَاكَ فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ؟ قَالَ: " أَتَانِي دَاعِيَ الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ". قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا، فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ. وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ: كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِنْهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.عامر سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ”لیلۃ الجن“ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے یہی سوال سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی ”لیلۃ الجن“ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم نے آپ کو گم پایا، پھر ہم نے آپ ﷺ کو وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا۔ ہم نے سوچا: شاید آپ کو کوئی چیز اڑا لے گئی ہے یا آپ کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا ہے۔ ہم نے وہ رات بہت مشکل میں گزاری۔ صبح ہوئی تو آپ ﷺ غارِ حرا کی طرف سے آئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو گم پایا تو آپ کو بہت تلاش کیا، لیکن آپ کو نہ ڈھونڈ سکے۔ ہم تمام لوگوں نے رات بہت مشکل میں گزاری۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جنوں میں سے ایک شخص آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا اور ان پر قرآن کی تلاوت کی۔“ پھر آپ ﷺ ہمیں ساتھ لے کر چلے اور ہمیں ان کے آثار اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ انہوں (جنوں) نے آپ ﷺ سے زادِ راہ کا سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو گوشت سے بھرپور ہوگی، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں (ہڈی اور مینگنی) کے ساتھ استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے (جن) بھائیوں کا کھانا ہیں۔“