❮
❯
حدیث نمبر: 2895
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا فِي الصَّلَاةِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: " إِنِّي أَقُولُ مَا لِيَ أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ " فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حِينَ قَالَ ذَلِكَ قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ: هَذَا خَطَأٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَلَا ارْتِيَابَ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَالزُّبَيْدِيُّ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الشَّيْخُ: فِي صِحَّةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرٌ؛ وَذَلِكَ لِأَنَّ رِوَايَةَ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَمْ يُحَدِّثْ إِلَّا بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحْدَهُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَ الزُّهْرِيِّ مِنْ مَعْرِفَتِهِ أَكْثَرُ مِنْ أَنْ رَآهُ يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، أَنَّ أَبَا بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيَّ، أَخْبَرَهُمْ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: قَالَ الْحُمَيْدِيُّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أُكَيْمَةَ: هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ رَجُلٌ مَجْهُولٌ لَمْ ⦗٢٢٧⦘ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُهُ قَطُّ قَالَ الشَّيْخُ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ " فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: يَا فَارِسِيُّ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ. وَأَبُو هُرَيْرَةَ رَاوِي الْحَدِيثَيْنِ دَلِيلٌ عَلَى ضِعْفِ رِوَايَةِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، أَوْ أَرَادَ بِمَا فِي حَدِيثِ ابْنِ أُكَيْمَةَ الْمَنْعَ عَنِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ أَوِ الْمَنْعَ عَنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ فِيمَا يَجْهَرُ فِيهِ بِالْقِرَاءَةِ وَهُوَ مِثْلُ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الْوَارِدِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ ساتھ قراءت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے!“
(ب) تب لوگ قراءت سے رک گئے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو سائب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص ہے۔“ (ابوسائب کہتے ہیں:) میں نے کہا: اے ابوہریرہ! جب میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو کیا کروں؟ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور فرمایا: اے فارسی! اس کو اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔
(د) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دو حدیثوں کا منقول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ابن اکیمہ والی روایت ضعیف ہے۔
یعقوب بن سفیان فرماتے ہیں: یہ بلا شک و شبہ غلطی ہے۔ نبی ﷺ سے اس حدیث کی صحت محل نظر ہے، کیونکہ یہ ابن اکیمہ لیثی کی روایت ہے اور وہ مجہول آدمی ہے، اس نے صرف یہی ایک حدیث بیان کی ہے، اس سے زہری کے سوا کسی نے روایت نہیں کی، اور زہری بھی اس کے بارے میں اس سے زیادہ نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے اسے سعید بن مسیب سے حدیث بیان کرتے دیکھا۔ حمیدی نے ابن اکیمہ کی حدیث کے بارے میں فرمایا: یہ حدیث ایک مجہول آدمی نے روایت کی ہے جس سے اس کے سوا کسی نے کبھی روایت نہیں کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2895
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ قال البزار 6/ 293، 2313»