السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2892
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا الْقَعْنَبِيُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ ⦗٢٢٥⦘ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا؟ " فَقَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " إِنِّي أَقُولُ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ " قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيمَا جَهَرَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَى حَدِيثَ ابْنِ أُكَيْمَةَ هَذَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَلَى مَعْنَى مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جہری نماز سے سلام پھیرا اور فرمایا: ”ابھی نماز میں میرے ساتھ ساتھ کس نے قراءت کی ہے؟“ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی لیے میں سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن پڑھنا مجھ پر مشکل ہو رہا ہے۔“ تب سے لوگ جہری نمازوں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قراءت کرنے سے رک گئے۔
ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن اکیمہ کی اس حدیث کو معمر، یونس اور اسامہ بن زید نے زہری سے مالک کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔