السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2890
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ يَعْنِي أَبَا غَلَّابٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُنَا إِذَا صَلَّى بِنَا، فَقَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: سَالِمُ بْنُ نُوحٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.حافظ ثناء اللہ
حطان بن عبداللہ رقاشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب ہمیں نماز پڑھاتے تو ہمیں فرماتے تھے: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش ہو جاؤ۔“