السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
حدیث نمبر: 2888
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَوْنُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ قَالَ: أَنْزَلَ اللهُ هَذِهِ الْآيَةَ {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا قَالَ: " كَانَ النَّاسُ يَتَكَلَّمُونَ فِي الصَّلَاةِ " وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ} [الأعراف: ٢٠٤]، عَنْ عَوْنٍ، وَزَادَ فِيهِ فَأَنْزَلَهَا الْقُصَّاصُ فِي الْقَصَصِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) عون بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے سنا کہ لوگ نماز میں باتیں وغیرہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل کی: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا﴾ [سورة الأعراف: 204] ”جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔“
(ب) سعید بن منصور نے اس حدیث کو عون سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ «فَأَنْزَلَهَا الْقُصَّاصُ فِي الْقَصَصِ» ”پس اسے قصہ گو حضرات نے قصوں کے متعلق نازل کیا ہے۔“