السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يترك المأموم القراءة فيما جهر فيه الإمام بالقراءة باب: اس قول کا بیان کہ مقتدی ان نمازوں میں قراءت چھوڑ دے جن میں امام جہری قراءت کرتا ہے
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا} [الأعراف: 204] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى فِي الْقَدِيمِ: فَهَذَا عِنْدَنَا عَلَى الْقِرَاءَةِ الَّتِي تُسْمَعُ خَاصَّةً.اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا﴾ ”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔“ [سورة الأعراف: 204]
امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قولِ قدیم میں فرمایا: ”ہمارے نزدیک یہ حکم خاص طور پر اس قراءت کے بارے میں ہے جو سنی جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " الْمُؤْمِنُ فِي سَعَةٍ مِنَ الِاسْتِمَاعِ إِلَيْهِ إِلَّا فِي صَلَاةٍ مَفْرُوضَةٍ أَوْ مَكْتُوبَةٍ، أَوْ يَوْمِ جُمُعَةٍ أَوْ يَوْمِ فِطْرٍ أَوْ يَوْمِ أَضْحَى، يَعْنِي إِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا " وَرُوِّينَا مِنْ وَجْهٍ آخَرَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: هَذَا لِكُلِّ قَارِئٍ؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ هَذَا فِي الصَّلَاةِ.(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مومن قرآن کی قراءت کی طرف کان لگاتا ہے مگر فرض نماز میں، جمعہ کی نماز، عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز میں کان نہیں لگا سکتا، یعنی ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا﴾ [سورة الأعراف: 204] ”اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو۔“
(ب) ایک دوسری ضعیف سند سے ہمیں روایت پہنچی ہے کہ عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ ہر قاری کے لیے ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ صرف نماز کے لیے ہے۔