السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب له أن لا يقصر عنه من الدعاء قبل السلام باب: سلام سے پہلے جس دعا میں کوتاہی نہ کرنا مستحب ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2883
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِي النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ جَمِيعًا، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَدْعُ بِأَرْبَعٍ، ثُمَّ لِيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ: اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز سے فارغ ہو تو اللہ سے چار چیزوں کے بارے میں دعا کرے، اس کے بعد جو چاہے مانگے۔ یوں دعا کرے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» ”اے اللہ! میں جہنم اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور زندگی اور موت کے فتنوں سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔““