حدیث نمبر: 2855
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الظَّفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ، إِلَّا أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنَذْكُرَ اللهَ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَفَوَاتِحَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِذَا جَلَسْتُمْ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَإِذَا قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ فَقَدْ ⦗٢١٢⦘ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ أَوْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، ثُمَّ يُبْتَدَأُ بِالثَّنَاءِ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَدْحَةِ لَهُ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَبِالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَسْأَلُ بَعْدُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شروع میں ہم دو رکعتوں کے درمیان بیٹھتے تھے تو معلوم نہ ہونے کی وجہ سے تسبیح و تکبیر پڑھتے تھے اور اللہ کا ذکر کرتے۔ بیشک رسول اللہ ﷺ بہترین کلمات جانتے تھے۔ آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم دو رکعتوں کے درمیان بیٹھو تو کہو: ”تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“” سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آدمی جب «السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ» ”ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو“ کہتا ہے تو ہر نیک بندے کو یا فرمایا: ہر نبی مرسل کو وہ سلام پہنچ جاتا ہے، پھر اللہ کی ثنا کے ساتھ ابتدا کرے اور اللہ کی مدح و تعریف کرے جس کا وہ اہل ہے۔ پھر نبی ﷺ پر درود بھیجے، پھر اللہ سے اس کے بعد مانگے جو چاہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2855
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اسناده صحيح»