السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قدم كلمتي الشهادة على كلمتي التسليم باب: اس قول کا بیان جس نے شہادت کے دونوں کلموں کو سلام کے دونوں کلموں پر مقدم کیا ہے
حدیث نمبر: 2840
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ إِذَا تَشَهَّدَتْ: " التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاكِيَّاتُ لِلَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
زوجہ رسول ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ آپ جب تشہد میں بیٹھتی تھیں تو یہ پڑھتی تھیں: «التَّحِيَّاتُ...» ”تمام قولی، مالی اور بدنی عبادات اور تسبیحات اللہ کے لیے ہیں، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اس کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، سلام ہو تم پر۔“