السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب أو أباح التسمية قبل التحية باب: اس قول کا بیان جس نے التحیات سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کو مستحب یا مباح قرار دیا ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ وَزَادَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَقَالَ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: نَسْأَلُ اللهَ الْجَنَّةَ وَنَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ تَفَرَّدَ بِهِ أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: " هُوَ خَطَأٌ " وَالصَّوَابُ مَا رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مِثْلَ مَا رَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَرُوِّيَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.(ا) ایک دوسری سند سے اسی طرح کی حدیث منقول ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ جس طرح ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور انہوں نے کہا: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ» اور اس کے آخر میں انہوں نے فرمایا: «نَسْأَلُ اللهَ الْجَنَّةَ، وَنَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ» ”ہم اللہ سے جنت کا سوال کرتے ہیں اور اس کے ذریعے آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔“
(ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ غلط ہے۔“ درست وہ روایت ہے جو لیث بن سعد نے ابوزبیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر اور طاؤس سے اور انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی ہے۔
اس روایت کو ابوزبیر سے، وہ جابر رضی اللہ عنہ سے، بیان کرنے میں ایمن بن نابل منفرد ہیں۔