السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من روى أنه أشار بها ولم يحركها باب: اس بات کی روایت کا بیان کہ آپ ﷺ نے انگلی سے اشارہ کیا اور اسے حرکت نہیں دی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: ثُمَّ " قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ، وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ ثَلَاثَةً مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا " فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِالتَّحْرِيكِ الْإِشَارَةَ بِهَا لَا تَكْرِيرَ تَحْرِيكِهَا فَيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ میں ضرور رسول اللہ ﷺ کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ ﷺ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں ہے کہ آپ ﷺ بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھے اور ہتھیلی کو بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا اور دائیں کہنی کو دائیں ران پر رکھا، پھر انہوں نے اپنی تین انگلیوں کو بند کر کے حلقہ بنایا، پھر شہادت والی انگلی کو اٹھایا، آپ ﷺ اس کو حرکت دیتے رہے، اس کے ساتھ دعا کرتے رہے۔
(ب) یہ احتمال ہوسکتا ہے کہ حرکت دینے سے مراد انگلی سے اشارہ کرنا ہے، نہ کہ مسلسل حرکت دینا۔ اس طرح یہ حدیث ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت کے موافق ہوجائے گی۔ واللہ اعلم۔