حدیث نمبر: 2764
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: " رَمَقْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَرَأَيْتُهُ يَنْهَضُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، وَلَا يَجْلِسُ إِذَا صَلَّى فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ حِينَ يَقْضِي السُّجُودَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ صَحِيحٌ، وَمُتَابَعَةُ السُّنَّةِ أَوْلَى، وَابْنُ عُمَرَ ⦗١٨١⦘ قَدْ بَيَّنَ فِي رِوَايَةِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْهُ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ وَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ يَشْتَكِي، وَعَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے پاؤں کی انگلیوں پر (تیزی سے) سیدھے کھڑے ہوتے تھے اور پہلی رکعت میں سجدے سے فارغ ہونے کے بعد بیٹھتے نہ تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود کی روایت صحیح ہے، لیکن سنت کی متابعت زیادہ بہتر ہے اور مغیرہ بن حکیم کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی وضاحت بھی کی ہے کہ یہ نماز کی سنت نہیں ہے۔ یہ تو انہوں نے تھکاوٹ اور مشقت کی وجہ سے کیا ہے، لہٰذا اس کو دلیل بنانا درست نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2764
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اسناده حسن وقد جاء بسند صحيح في الذي قبله»