السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما يستحب من أن يكون مكث المصلي في هذه الأركان قريبا من السواء باب: اس بات کے مستحب ہونے کا بیان کہ نمازی کا ان ارکان میں ٹھہرنا تقریباً برابر ہو
حدیث نمبر: 2755
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، وَمُسَدَّدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " رَمَقْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ وَرَكْعَتَهُ وَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ، فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجِلْسَتَهُ بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ " لَفْظُ حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کی نماز کا انداز لگایا تو میں نے آپ کے قیام، رکوع، قومے، سجدے، جلسے اور قعدے کی مقدار کو برابر پایا۔
(ب) صحیح مسلم میں بھی یہ روایت ہے، البتہ اس کے الفاظ قدرے مختلف ہیں؛ اس میں ہے کہ آپ ﷺ کا رکوع، قومہ، سجدہ، دو سجدوں کے درمیان جلسہ، دوسرا سجدہ اور قعدہ تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔