السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المكث بين السجدتين باب: دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو: " أَلَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي؟ فَقُلْنَا: بَلَى قَالَ: فَقَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ، وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَعَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ صَنَعَ ذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَهَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا ".ابو عبداللہ سالم سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا میں اس طرح نماز پڑھوں جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے؟“ تو ہم نے کہا: ”کیوں نہیں! ضرور دکھائیے۔“ چنانچہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا اور اپنی انگلیاں اپنے گھٹنوں کے ارد گرد رکھیں اور اپنی بغلوں کو بھی کشادہ رکھا حتیٰ کہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سیدھے کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ ٹھہر گیا۔ پھر سجدہ کیا تو بھی اپنے بازوؤں کو کشادہ رکھا، یہاں تک کہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ ٹھہر گئی، پھر بیٹھے تو اسی طرح اطمینان سے کہ ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر رک گیا، پھر اسی طرح چاروں رکعتوں میں کیا اور اس کے بعد فرمایا: ”اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے اور اسی طرح آپ ہمیں نماز پڑھاتے تھے۔“