السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المكث بين السجدتين باب: دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: " أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي غَيْرِ حِينَ صَلَاةٍ، فَقَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ هُنَيْئَةً، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ انْتَظَرَ هُنَيْئَةً، ثُمَّ سَجَدَ " ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: صَلَّى صَلَاةَ شَيْخِنَا هَذَا، يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَيُّوبُ: وَكَانَ عَمْرٌو يَصْنَعُ شَيْئًا لَا ⦗١٧٥⦘ أَرَى النَّاسَ يَصْنَعُونَهُ، كَانَ " إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ السَّجْدَتَيْنِ فِي الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُومُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ.ابوقلابہ سے روایت ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کا طریقہ نہ بتلاؤں؟“ اس وقت فرض نماز کا وقت بھی نہیں تھا۔ وہ کھڑے ہوئے، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر تک کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور تھوڑی دیر ٹھہرے، پھر دوسرا سجدہ کیا۔
ابوقلابہ کہتے ہیں: انہوں نے ہمارے شیخ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی طرح نماز پڑھی۔
ایوب کہتے ہیں کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ ایک ایسا کام کیا کرتے تھے جو میں نے اور لوگوں کو کرتے نہیں دیکھا، وہ جب پہلی اور تیسری رکعت میں دونوں سجدوں سے اٹھتے تو سیدھے بیٹھ جاتے تھے، پھر اس کے بعد کھڑے ہوتے تھے۔