السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: يعتمد بمرفقيه على ركبتيه إذا طال السجود باب: جب سجدہ طویل ہو جائے تو اپنی کہنیوں کا اپنی رانوں (یا گھٹنوں) پر سہارا لینے کا بیان
حدیث نمبر: 2721
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِاعْتِمَادَ وَالْإِدِّعَامَ فِي الصَّلَاةِ، فَرَخَّصَ لَهُمْ أَنْ يَسْتَعِينَ الرَّجُلُ بِمِرْفَقَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، أَوْ فَخِذَيْهِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُمَيٍّ ٢٦ عَنِ النُّعْمَانِ قَالَ: شَكَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا قَالَ: الْبُخَارِيُّ وَهَذَا أَصَحُّ بِإِرْسَالِهِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) نعمان بن ابی عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ٹیک لگانے اور سہارا لینے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ہمیں رخصت دے دی کہ ”آدمی اپنی کہنیوں کے ساتھ اپنے گھٹنوں اور رانوں پر سہارا لے لے۔“
(ب) اسی طرح سفیان ثوری رحمہ اللہ، سمی رحمہ اللہ سے اور وہ نعمان رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے شکایت کی۔۔۔ انہوں نے یہ حدیث مرسل ذکر کی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔