السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: يفرج بين رجليه ويقل بطنه عن فخذيه باب: اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان فاصلہ رکھے اور اپنا پیٹ اپنی رانوں سے بلند (دور) رکھے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2715
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهما فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْقُعُودِ لِلْحَاجَةِ، وَفِيهِ: ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي وَاللهِ قَالَ: يَعْنِي " الَّذِي يَسْجُدُ وَلَا يَرْتَفِعُ عَنِ الْأَرْضِ يَسْجُدُ وَهُوَ لَاصِقٌ بِالْأَرْضِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے قضائے حاجت کے لیے بیٹھنے کے بارے میں مکمل حدیث منقول ہے۔ اس میں انہوں نے فرمایا کہ شاید تم ان لوگوں میں سے ہو جو اپنی رانوں پر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ ان کی مراد وہ شخص ہے جو سجدے میں زمین سے اوپر اٹھا ہوا نہیں ہوتا، یعنی وہ زمین کے ساتھ چمٹ کر سجدہ کرتا ہے۔