حدیث نمبر: 2691
قَدْ مَضَى فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ: فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ.
حافظ ثناء اللہ

علقمہ بن وائل کی اپنے والد سے ثابت شدہ حدیث گزر چکی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، پھر انہوں نے پوری حدیث کا ذکر کیا، اور اس میں یہ الفاظ ہیں: ”پس جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔“

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَامِدٍ التِّرْمِذِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِبَّانَ، ثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التِّرْمِذِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: " فَقَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِذَلِكَ الْمَكَانِ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَذَا قَالَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ: حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَوَافَقَهُ عَلَى ذَلِكَ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَغَيْرُهُ، عَنْ عَاصِمٍ حَذْوَ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ رَأْسَهُ بِذَلِكَ الْمَنْزِلِ مِنْ يَدَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں نے دل میں ارادہ کیا کہ میں دیکھوں گا کہ آپ ﷺ کیسے نماز پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھائے۔ پھر رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا، پھر جب رکوع سے سر اٹھایا تو بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر تک اٹھائے۔ پھر جب سجدہ کیا تو اپنے چہرے کو اپنے سامنے رکھا، پھر مکمل حدیث ذکر کی۔
اسی طرح عبدالواحد بن زیاد عاصم سے روایت کرتے ہیں، یعنی کندھوں کے برابر تک ہاتھ اٹھائے۔
[ضعیف۔ بہذا اللفظ۔ ولکن معناہ ثابت صحیح عند مسلم ]
(ب) رفع یدین میں اس کی موافقت سفیان بن عیینہ نے بھی کی ہے اور بشر بن مغفل وغیرہ عاصم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کانوں کے برابر اٹھائے اور جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو اپنا سر اپنے ہاتھوں کے درمیان رکھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2691