السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يكف ثوبا ولا شعرا ولا يصلي عاقصا شعرا باب: نماز میں نہ کپڑے سمیٹے جائیں اور نہ بال، اور نہ ہی کوئی بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ⦗١٥٧⦘ أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، أنبأ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَحَسَنٌ يُصَلِّي قَائِمًا قَدْ غَرَزَ ضَفْرَتَيْهِ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهُمَا أَبُو رَافِعٍ فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ يَقُولُ: مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَغْرِزَ ضَفْرَتَيْهِ " لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ: " هِيَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ " وَرُوِّينَا فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَحُذَيْفَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.(ا) سعید بن ابوسعید مقبری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرتے دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے اور آپ نے زلفوں کی مینڈھیاں بنا کر گردن کے پیچھے ڈال رکھی تھیں۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے وہ مینڈھیاں کھول دیں، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں ان کی طرف مڑے تو ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نماز جاری رکھو اور غصہ نہ کرو، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”یہ بالوں کی مینڈھیاں شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہیں“ یعنی مینڈھیوں کا جوڑا بنانا منع ہے۔
(ب) عبدالرزاق کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے“۔
(ج) جوڑے کی کراہت کے بارے میں سیدنا عمر، علی، حذیفہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی روایات گزر چکی ہیں۔