السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من بسط ثوبا فسجد عليه باب: اس شخص کا بیان جس نے کپڑا بچھایا اور اس پر سجدہ کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي مَتْنِهِ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَيَأْخُذُ أَحَدُنَا الْحَصْبَاءَ فِي يَدِهِ، فَإِذَا بَرَدَ وَضَعَهُ وَسَجَدَ عَلَيْهِ " قَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ: " هَذَانِ حَدِيثَانِ رَوَاهُمَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ أَحَدُهُمَا فِي الثَّوْبِ وَالْآخَرُ فِي الْحَصْبَاءِ، وَقَدْ رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُكَيْرٍ السُّلَمِيُّ، عَنْ بَكْرٍ يَعْنِي بِقَرِيبٍ مِنَ اللَّفْظِ الْأَوَّلِ فِي الثِّيَابِ قَالَ الشَّيْخُ: " وَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ السُّجُودِ عَلَى كَوْرِ الْعِمَامَةِ فَلَا يَثْبُتُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي ذَلِكَ قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ حِكَايَةً، عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".(ا) اسی طرح کی حدیث ایک دوسری سند سے بھی منقول ہے، مگر اس میں یہ ہے کہ: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گرمی کی شدت میں نماز ادا کرتے تو ہم میں سے کوئی آدمی اپنے ہاتھ میں کنکریاں پکڑ لیتا، جب وہ ٹھنڈی ہو جاتیں تو وہ ان کو نیچے رکھ کر ان پر سجدہ کرتا۔“
(ب) شیخ ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دو حدیثیں جن کو بشر بن مفضل نے روایت کیا ہے، ان میں سے ایک کپڑے کے بارے میں اور دوسری کنکریوں کے بارے میں ہے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ سے عمامہ کی پٹی پر سجدہ کرنے کے بارے میں جو روایت منقول ہے وہ ثابت نہیں ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ اس بارے میں حسن بصری رحمہ اللہ سے جو منقول ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل ہے۔