حدیث نمبر: 2619
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى لَنَا صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ جُلُوسًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ " مَخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے تھے کہ اس سے گر گئے اور آپ ﷺ کا دایاں پہلو مبارک زخمی ہو گیا۔ آپ ﷺ نے ایک نماز ہمیں بیٹھ کر پڑھائی اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر ہی نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ تم امام سے اختلاف نہ کیا کرو۔ جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ کہے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ تو تم کہو: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں“ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2619
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 789»