السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القول عند رفع الرأس من الركوع وإذا استوى قائما باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور جب سیدھا کھڑا ہو جائے تو کیا پڑھے، اس کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنِي رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ أَبُو يَزِيدَ إِمَامُ الْمَسْجِدِ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ رِفَاعَةَ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَعَطَسَ ⦗١٣٧⦘ رِفَاعَةُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيْنَ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟ " قَالَ رِفَاعَةُ: وَدِدْتُ أَنِّي عَدِمْتُ عِدَّةً مِنْ مَالِي وَلَمْ أَشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الصَّلَاةَ حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟ " فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " كَيْفَ قُلْتَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بَضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا " وَرُوِيَ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: عَطَسَ شَابٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: كَذَا فَذَكَرَ بَعْضَ مَعْنَاهُ.(ا) معاذ بن رفاعہ انصاری اپنے باپ رفاعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ دورانِ نماز انہیں چھینک آ گئی تو انہوں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت اور تعریف جس کو ہمارا رب پسند کرتا ہے۔“ جب آپ ﷺ نماز پڑھا چکے تو پوچھا: ”نماز میں بولنے والا کون تھا؟“ رفاعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ کے ایسا پوچھنے سے میں ڈر گیا اور میرا جی چاہا کہ اس نماز میں شریک ہونے کے بجائے میرا کثیر مال گم ہو جاتا تو مجھے اتنا افسوس نہ ہوتا جتنا نماز میں بولنے سے ہوا۔ خیر! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے کس طرح کے کلمات کہے تھے؟“ میں نے کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت تعریف جس کو ہمارا رب پسند کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! تیس سے زیادہ فرشتے اس کا ثواب لے کر چڑھنے میں ایک دوسرے سے پہل کر رہے تھے۔“
(ب) عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انصار کے ایک نوجوان کو دورانِ نماز چھینک آئی تو اس نے اس طرح کہا۔۔۔ پھر اسی جیسی حدیث ذکر کی۔