السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إثم من رفع رأسه قبل الإمام باب: امام سے پہلے سر اٹھانے والے کے گناہ کا بیان
حدیث نمبر: 2602
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَخْلَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: " إِذَا رَفَعَ أَحَدُكُمْ رَأْسَهُ فَظَنَّ أَنَّ الْإِمَامَ قَدْ رَفَعَ فَلْيُعِدْ رَأْسَهُ فَإِذَا رَفَعَ الْإِمَامُ رَأْسَهُ فَلْيَمْكُثْ قَدْرَ مَا تَرَكَ " وَرُوِّينَا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ يَعُودُ فَيَسْجُدُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) حارث بن مخلد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی اپنا سر امام سے پہلے سجدے سے اٹھا لے یہ سمجھتے ہوئے کہ امام اٹھ گیا ہے تو وہ دوبارہ سجدے میں چلا جائے۔ پھر جب امام سجدے سے سر اٹھائے تو وہ اتنی دیر مزید ٹھہرا رہے جتنی دیر پہلے اس نے چھوڑا تھا۔
(ب) ابراہیم نخعی اور شعبی رحمہما اللہ سے منقول ہے کہ وہ دوبارہ لوٹے اور سجدہ کرے۔