السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: استحباب إمرار الماء على العضد باب: بازو کے اوپری حصے (عضد) پر پانی بہانے کے استحباب کا بیان
حدیث نمبر: 259
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مَلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّهُ قَالَ: رَقِيتُ يَوْمًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيْهِ سَرَاوِيلُ مِنْ تَحْتِ قَمِيصِهِ، فَنَزَعَ سَرَاوِيلَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ الْوَضُوءَ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ وَرَفَعَ فِي سَاقَيْهِ الْوَضُوءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أُمَّتِي تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ دُونَ فِعْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَذَكَرَ فِعْلَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت ہے کہ میں ایک دن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی چھت پر چڑھا، ان پر قمیض کے نیچے شلوار تھی، انہوں نے اپنی شلوار کو کھینچا، پھر وضو کیا، پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا اور ہاتھوں کو کندھوں تک دھویا، پاؤں کو پنڈلیوں تک دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بیشک میری امت قیامت کے دن آئے گی اور ان کے وضو کے اعضاء چمک رہے ہوں گے، جو یہ طاقت رکھے کہ وہ اپنی سفیدی کو بڑھائے تو وہ ایسا کرے۔“