السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من كبر تكبيرة واحدة للافتتاح وركع ومن استحب أن يكبر أخرى للركوع باب: اس شخص کا بیان جس نے نماز شروع کرنے کے لیے ایک ہی تکبیر کہی اور رکوع کر لیا، اور اس شخص کا بیان جس نے رکوع کے لیے دوسری تکبیر کہنے کو مستحب سمجھا
حدیث نمبر: 2589
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنُ خَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ " إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ رُكُوعٌ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ دَبَّ وَهُوَ رَاكِعٌ حَتَّى يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ " قَالَ مُحَمَّدٌ: أَخْبَرَنِي ذَاكَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ شُعَيْبٌ: وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَانَ عُرْوَةُ يَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَاه فِي الْبَابِ قَبْلَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوئے تو لوگ رکوع میں تھے، وہ قبلہ رُخ ہوئے، تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے، پھر رکوع کی حالت میں ہی دبے پاؤں چل کر صف سے جا ملے۔
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بھی اس طرح کرتے تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ذکر کرچکے ہیں۔