السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: النهي عن قراءة القرآن في الركوع والسجود باب: رکوع اور سجدے میں تلاوتِ قرآن کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2567
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى آلِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: إِنَّهُ " لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا مِنَ الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابُ لَكُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مرضِ وفات میں) پردہ اٹھایا اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے کھڑے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نبوت کی بشارتوں میں سے صرف اچھے خواب ہی باقی رہ گئے ہیں، جنھیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔ خبردار! مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا رکوع میں اللہ کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگو؛ کیونکہ اس حالت میں دعائیں جلدی قبول ہوتی ہیں۔“