السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: التكرار في غسل اليدين باب: دونوں ہاتھوں کو دھونے میں تکرار کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنا عَبْدُ اللهِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ كَوُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا بِشَيْءٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدَانَ.حمران بن ابان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر ان کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بائیں کو دھویا، پھر اپنے ہاتھ سے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دائیں پاؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بائیں کو، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، ان دونوں رکعتوں میں کسی چیز کا خیال دل میں پیدا نہیں ہوا تو اس کے اگلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“