السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: رفع اليدين عند الركوع وعند رفع الرأس منه باب: رکوع میں جاتے وقت اور اس سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین (ہاتھ اٹھانے) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، وَمَوْلًى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ " قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: " وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ، يَعْنِي رَفَعَ الْيَدَيْنِ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ وَرَفَعَهُمَا فَكَبَّرَ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَفَّانَ.علقمہ بن وائل اور ان کے غلام دونوں نے علقمہ کے والد سیدنا وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہتے ہوئے دیکھا۔ (سند کے راوی) ابو عثمان کہتے ہیں کہ ہمام نے یہ صفت بھی بیان کی کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے برابر تک اٹھایا، پھر اپنے کپڑے میں ہاتھ لپیٹ لیے اور دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا، پھر جب رکوع کا ارادہ فرمایا تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے باہر نکالا اور ہاتھ بلند کرتے ہوئے تکبیر کہی۔ پھر جب ”«سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“” کہا تو بھی ہاتھ اٹھائے، پھر دونوں ہتھیلیوں کے درمیان۔