حدیث نمبر: 2482
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَعَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " قَدْ شَكَوْكَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى الصَّلَاةِ " قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَدَقْتَ، ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ " وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ فَأَمُدُّ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ بِهِمْ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَقَالَ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) ابوعون سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل کوفہ نے ہر بات میں حتیٰ کہ نماز میں بھی تیری شکایت کی ہے۔ انہوں نے عرض کیا: میں تو پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا ہوں اور آخری دو رکعتیں مختصر کر کے پڑھتا ہوں اور یہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز سے لیا ہے، اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کرتا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نے سچ فرمایا، تم سے یہی گمان تھا۔
(ب) شبابہ کی حدیث میں ہے کہ میں انہیں پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو اسحاق! میرا تمہارے بارے میں یہی گمان ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2482
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»