السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: إعادة سورة في كل ركعة باب: ہر رکعت میں ایک ہی سورت کو دہرانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَاذَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَؤُهَا لَهُمْ فِي الصَّلَاةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ، افْتَتَحَ بِـ {قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: ١] حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ سُورَةً أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَالُوا: إِنَّكَ تَفْتَتِحُ بِهَذِهِ السُّورَةِ، ثُمَّ لَا تَرَى أَنَّهَا تُجْزِئُكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِأُخْرَى، فَإِمَّا أَنْ تَقْرَأَهَا وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ أُخْرَى، فَقَالَ لَهُمْ: مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِذَلِكَ فَعَلْتُ، وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ، وَكَانُوا يَرَوْنَهُ أَفْضَلَهُمْ، وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَلَمَّا ⦗٨٩⦘ أَتَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ، مَا يَمْنَعُكَ مِمَّا يَأْمُرُكَ أَصْحَابُكَ، وَمَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُحِبُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ حُبَّهَا يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ ".سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری شخص مسجدِ قبا میں لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا۔ جب وہ کوئی سورت شروع کرتا تو پہلے سورہ اخلاص پڑھتا۔ جب اس سے فارغ ہوتا تو اس کے بعد دوسری سورت ملا کر پڑھتا۔ وہ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتا تھا۔ اس کے مقتدیوں نے اس پر اعتراض کیا کہ سورہ اخلاص کو شروع فرما دیتے ہیں، پھر خیال کرتے کہ یہ سورت کافی نہیں اور دوسری سورت اس کے ساتھ ملاتے ہیں، ایسا کیوں کرتے ہیں؟ یا صرف اسی کو پڑھا کریں یا پھر کوئی دوسری پڑھ لیا کریں۔ اس نے انھیں کہا: میں تو یہ سورت چھوڑنے والا نہیں، اگر تم راضی ہو تو میں تمہاری امامت کروں گا اور اگر تم ناپسند سمجھو تو میں امامت چھوڑنے پر تیار ہوں۔ لوگ اس کو اپنے میں سے سب سے افضل اور بہتر جانتے تھے، اس کے علاوہ کسی اور کی امامت کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے تو انھوں نے یہ مسئلہ آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”اے بندہ خدا! تو ایسا کیوں نہیں کرتا جیسے تیرے ساتھی کہتے ہیں؟ اور کس نے تجھے ہر رکعت میں اس سورت کو لازم کرنے پر ابھارا ہے؟“ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس سورت سے محبت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کرے گی۔“