أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَحَدَّثَتْنِي قَالَتْ: بَيْنَمَا أَنَا قَاعِدَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَاسْتَأْذَنَ أَحَدُهُمْ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَدْرِينَ عَلَى مَا حَسَدُونَا؟ " قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: " فَإِنَّهُمْ حَسَدُونَا عَلَى الْقِبْلَةِ الَّتِي هُدِينَا لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي هُدِينَا لَهَا وَضَلُّوا عَنْهَا، وَعَلَى قَوْلِنَا خَلْفَ الْإِمَامِ آمِينَ ".محمد بن اشعث فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ تین یہودی آئے۔ ان میں سے کسی نے اجازت طلب کی۔۔۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے (عائشہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے کہ یہودی ہمارے ساتھ کن چیزوں کی وجہ سے حسد کرتے ہیں؟“ (فرماتی ہیں:) میں نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہمارے ساتھ قبلہ پر حسد کرتے ہیں جس کی ہمیں ہدایت کی گئی اور یہ اس سے بھٹک گئے اور جمعہ پر حسد کرتے ہیں جس کی طرف ہماری رہنمائی کی گئی اور یہ اس سے روگرداں رہے اور تیسری چیز امام کے پیچھے ہمارے «آمِینَ» کہنے پر بھی حسد کرتے ہیں۔“