السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا تجزئه قراءته في نفسه إذا لم ينطق به لسانه باب: دل میں قراءت کرنا اس وقت تک کافی نہیں جب تک زبان سے ادا نہ کرے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2432
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَخْبَرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ خَبَّابًا: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَاكَ؟ قَالَ: " بِاضِّطَرَابِ لِحْيَتِهِ " مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ يُحَرِّكَ لِسَانَهُ بِالْقِرَاءَةِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ابومعمر عبداللہ بن سخبرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! ہم نے پوچھا: تم یہ کس طرح پہچانتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا آپ ﷺ کی داڑھی مبارک کے حرکت کرنے سے۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ دورانِ قرأت زبان کو حرکت دینا ضروری ہے۔